Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
حالتِ احرام میں سر ڈھانپ کر نماز پڑھ لی، تو حکم؟
- Fatwa no.
- 1216-Web
- Issued
- 23 جمادی الثانی 1445ھ / 06 جنوری 2024 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) حالت احرام میں مرد نے بھولے سے سر ڈھانپ کے نماز پڑھ لی، کیا اس سے دم لازم ہو گا؟ نیز دم دینا حدود حرم میں ضروری ہے یا وطن واپس آکر بھی دیا جا سکتا ہے؟
Answer (beginning)
اگر بارہ گھنٹے تک سر چھپائے رکھا تو دم لازم ہو گا، اگر اس سے کم چھپایا تو صدقہ ہو گا یعنی تقریبا دو کلو آٹے کی رقم شرعی فقیر کو دینی ہو گی۔ واضح رہے کہ دم حدود حرم میں ہی دینا ضروری ہے البتہ صدقہ کہیں اور بھی دے سکتے ہیں۔ بہار شریعت میں ہے: ” مرد نے پورا یا چہارم سر چھپایا تو چار پہر یازیادہ لگاتار چھپانے میں دم ہے اور کم میں صدقہ اور چہارم سے کم کو چار پہر تک چھپایا تو صدقہ ہے اور چار پہر سے کم میں کفارہ نہیں مگر گناہ ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.