Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
چیز خریدنے کا وعدہ کیا مگر خریدتے وقت پسند نہ آئی تو خریدنے کا حکم
- Fatwa no.
- 1233-Web
- Issued
- 20 جمادی الاول 1445ھ / 05دسمبر 2023ء
Question
كا حكم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کسی نے کوئی چیز خریدنے کا وعدہ کیا لیکن جب لینے گیا تو وہ پسند نہیں آئی تو کیا اب خریدنے سے منع کر سکتے ہیں ؟
Answer (beginning)
اگر واقعی وعدہ ہو ا تھا، سودا نہیں ہوا تھا، تو منع کر سکتے ہیں بلکہ اگر سودا ہوا اور چیز کو دیکھانہ ہو تو بھی شرعا خیار رؤیت ہوتا ہے کہ پسند نہ آنے کی صورت میں سودا کینسل کر سکتا ہے۔ بہار شریعت میں ہے: " کبھی ایسا ہوتا ہے کہ چیز کو بغیر دیکھے خرید لیتے ہیں اور دیکھنے کے بعد وہ چیز نا پسند ہوتی ہے، تا ایسی حالت میں شرع مطہر نے مشتری کو یہ اختیار دیا ہے کہ اگر دیکھنے کے بعد چیز کو نہ لینا چاہے تو بیع کو فسخ کر دے، اس کو خیار رویت کہتے ہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.