Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

فتنوں میں مبتلا ہونے کے اندیشہ کی بنا پر اولاد نہ کرنا

Fatwa no.
1231-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میں اولاد نہیں چاہتا ہوں، اس وجہ سے کہ یہ قرب قیامت کا دور ہے اور فتنے بہت ہیں ساتھ ہی گناہوں سے بچنا بے انتہا مشکل ہو گیا ہے میں اپنی اولاد کو ان نازک حالات میں گناہوں سے ہلاک ہو تا ہو انہیں دیکھ سکتا۔ ارشاد فرمادیجئے کہ میرا ایسا کر ناٹھیک ہے یا نہیں ؟ اور اولاد نہ ہونے کے لئے بیوی کا آپریشن کروانے کا کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

فتنہ اور گناہوں کے انبار ہر دور میں رہے ہیں اگر اس وجہ سے اولاد کرنا چھوڑ دی جاتی تو شاید آج اسلام نہ رہتا، اس سے اسلام میں جو شادی کا ایک عظیم مقصد ہے یعنی تکثیر مسلمین (مسلمانوں کی کثرت کرنا) وہ فوت ہو جائے گالہذا اولاد کی نعمت سے محروم نہ ہو ا جائے جو کہ والدین کا سہارا ہوتی ہے خاص طور پر بڑھاپے میں، آپ اپنی قدرت کے مطابق ان کی اچھی تربیت کریں، انہیں جامعہ المدینہ سے عالم دین بنائیں، تاکہ وہ خود تو فتنوں سے بچیں ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی بچائیں، اس نیت سے اولاد حاصل کرنا کار ثواب اور ایسی اولا د باعث نجات ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.