Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
گزشتہ سال نقد رقم نہ ہونے کی وجہ سے قربانی نہ کرسکے تو حکم
- Fatwa no.
- 1228-Web
- Issued
- 13 جمادی الاول 1445ھ / 28نومبر 2023ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) گزشتہ سال مجھ پر قربانی واجب ہو گئی تھی لیکن میرے پاس نقدر تم نہیں تھی کہ قربانی کا واجب ادا کر تا، اب اس صورت میں میرے لئے کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
جب قربانی واجب تھی تو آپ پر لازم تھا کہ کوئی چیز بیچ کر یا کسی سے قرض لے کر ایام قربانی میں قربانی کرتے، اور قربانی واجب ہونے کے باوجود قربانی نہ کی اور ایام قربانی گزر گئے تو اب قربانی نہیں کر سکتے ، البتہ اب آپ پر ایسی زندہ بکری یا اس کی قیمت صدقہ کرنا واجب ہے جس میں قربانی کی تمام شرائط پائی جائیں۔ یہ بکری یا اس کی قیمت کسی شرعی فقیر ( مستحق زکوۃ) کو دینا ضروری ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.