Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
تھکن کی وجہ سے کسی کو رمی کے لئے نائب بنانا
- Fatwa no.
- 1222-Web
- Issued
- 08 جمادی الاول 1445ھ / 23 نومبر 2023 ء
Question
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی محض تھکن کی وجہ سے دوسرے اور تیسرے دن کی رمی کے لیے کسی کو نائب بنائے کہ نائب اس کی طرف سے رمی کرے، کیا اس طرح نائب بنانا درست ہے اور نائب کے رمی کرنے سے نائب بنانے والے کا واجب ادا ہو جائے گا؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں کوئی شرعی عذر نہیں لہذا یہ نیابت جائز نہیں اور اس سے نائب بنانے والے کا واجب بھی ادا نہیں ہو گا۔ ستائیس واجبات حج میں ہے : ” عذر کے وقت کسی کور می کا نائب بنانا درست ہے چنانچہ جو شخص مریض ہو کہ جمرہ تک سواری پر بھی نہ جا سکتا ہو وہ دوسرے کو حکم کر دے کہ اس کی طرف سے رمی کرے۔۔۔ یادر ہے کہ مریض سے مراد وہ شخص ہے جو جمرات تک سواری یا کسی کے کندھے پر سوار ہو کر بھی نہ جا سکتا ہو اور جس میں یہ طاقت ہو شر عادہ کسی کو نائب نہیں بنا سکتا۔ بلا عذر شرعی مرد حضرات مستورات کی طرف سے بھی رمی نہیں کر سکتے اگر چہ ان کی 66 اجازت سے ہی کیوں نہ ہو ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.