Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

حیض والی عورت اپنا ہاتھ پانی میں ڈال دے تو پانی مستعمل ہوگا یا نہیں ؟

Fatwa no.
1218-Web
Issued
26 جمادی الثانی 1445ھ / 09 جنوری 2024ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا حائضہ عورت نے دھلا ہوا ہاتھ پانی میں ڈالا تو پانی مستعمل ہو جائے گا؟

Answer (beginning)

حیض والی عورت کا جب تک خون رک نہیں جاتا اس وقت تک قلیل یعنی تھوڑے پانی میں ہاتھ ڈالنے سے وہ پانی مستعمل نہیں ہو گا خواہ ہاتھ دھلا ہو اہو یا بے دھلا، اس پانی سے وضو و غسل کرنا، جائز ہو گا۔ البتہ اگر حصولِ قربت کے لیے قلیل پانی میں ہاتھ ڈالا تو پانی مستعمل ہو جائے گا، یو نہی حیض ختم ہو جانے کے بعد غسل کرنے سے پہلے بغیر دھلا ہاتھ قلیل پانی میں ڈالا تب بھی پانی مستعمل ہو جائے گا اور پانی مستعمل ہو جائے، تو اس سے وضو و غسل درست نہیں ہوتے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.