Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

طلاق یا خلع لئے بغیر عورت کا کسی اور سے نکاح کرنا

Fatwa no.
1208-Web

Question

ایک عورت کا نکاح ہوا اور وہ اپنے شوہر کے گھر چلی گئی، لیکن ان دونوں کے درمیان میاں بیوی والے تعلقات قائم نہیں ہوئے تھے اور کچھ دن بعد وہ واپس اپنے میکے آگئی، چار سال بعد اس عورت نے کسی اور سے نکاح کر لیا جبکہ پہلے شوہر سے ابھی تک طلاق نہیں ہوئی، کیا یہ دوسرا نکاح ٹھیک ہے ؟

Answer (beginning)

جب تک شوہر طلاق یا خلع نہ دے بیوی اس کے نکاح میں ہی رہے گی اور جب تک وہ اس کے نکاح میں ہے کہیں اور نکاح کرنا حرام و سخت گناہ ہے، ایسا ہر گز نکاح نہیں ہو گا۔ فتاوی ہندیہ میں ہے: " لا يجوز للرجل ان يتزوج زوجة غيره " یعنی کسی مرد کے لئے دوسرے کی بیوی سے نکاح کرنا جائز نہیں۔ (فتاوی هندیه، جلد1،صفحه280،مطبوعہ:پشاور) صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ” دوسرے کی منکوحہ سے نکاح نہیں ہو سکتا بلکہ اگر دوسرے کی عدت میں ہو جب بھی نہیں ہو سکتا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.