Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نمازِ جنازہ میں بعض تکبیریں رہ جائیں تو کیا حکم ہے؟

Fatwa no.
1201-Web
Issued
13 جمادی الثانی 1445ھ / 27 دسمبر 2023ء

Question

اگر کوئی نماز جنازہ میں شریک ہوا، ابھی شاہی پڑھ رہا تھا کہ امام نے چوتھی تکبیر کہہ کر سلام پھیر دیا، تو اس صورت میں یہ شخص کیا کرے سلام پھیر دے یا درود پاک و دعا پڑھ کر سلام پھیرے؟

Answer (beginning)

جس کی بعض تکبیریں فوت ہو گئیں پھر وہ نماز جنازہ میں شریک ہوا، تو اس کے لئے حکم یہ ہے کہ انعام کے سلام پھیرنے کے بعد اپنی بقیہ تکبیریں کہے اور درود و دعا بھی پڑھے ، ہاں اگر اندیشہ ہو کہ درود و دعا پڑھنے سے پہلے ہی لوگ جنازہ اٹھا لیں گے ، تو اس صورت میں صرف مزید اتنی تکبیریں کہہ دے جتنی باقی ہیں، نماز جنازہ ادا ہو جائے گا۔ بہار شریعت میں ہے: "مسبوق یعنی جس کی بعض تکبیریں فوت ہو گئیں وہ اپنی باقی تکبیر میں امام کے سلام پھیر نے کے بعد کہے اور اگر یہ اندیشہ ہو کہ دعائیں پڑھے گا، تو پوری کرنے سے پہلے لوگ میت کو کندھے تک اٹھا لیں گے ، تو صرف تکبیریں کہہ لے ، دعائیں چھوڑ دے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.