Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کئی سالوں سے زکوٰۃ نہیں دی تو اب کس طرح ادا کریں؟
- Fatwa no.
- 1199-Web
- Issued
- 22 جمادی الاول 1445ھ / 07 دسمبر 2023ء
Question
اگر کسی شخص کے پاس 2010 میں نصاب کے برابر سونا موجود تھا، لیکن اس نے زکوۃ ادا نہیں کی، بعد میں اس کو بیچ دیا، اب وہ اس سال کی زکوۃ ادا کرنا چاہتا ہے، تو سونے کی قیمت آج کے حساب سے لگائے گا یا 2010 کے حساب سے جب زکاۃ لازم ہوئی تھی ؟
Answer (beginning)
جس سال زکوۃ لازم ہوئی تھی اسی سال کے حساب سے ریٹ لگانا ہو گا۔ فتاوی اہلسنت میں ہے : " جس کے پاس کئی سالوں سے مال زکاۃ موجود ہے اور اس نے زکوۃ ادا نہیں کی تو اس پر سال گزشتہ کی زکوۃ نکالنا لازم ہے، زکوۃ نکالنے میں گزشتہ سالوں کے ریٹ کا اعتبار کیا جائے گا یعنی ہر قمری سال کے مکمل ہونے پر مقدار نصاب اور کل مال کا تعین کر کے ہر سال کی جتنی زکوۃ بنتی ہے ، اس کو ادا کر دیا جائے (فتاوی اہلسنت، کتاب الزكاة، صفحه 237، مکتبۃ المدینه، کراچی) وَ اللهُ أَعْلَمُ عَزَوَجَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِيهِ وَسَلَّم 66 عاملات اهليت Dar-ul-IftaAhlesunnat…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.