Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا ایسا شخص جس کی داڑھی چھوٹی ہو وہ تراویح پڑھا سکتا ہے؟
- Fatwa no.
- 1196-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا ایسا شخص جس کی داڑھی چھوٹی ہو وہ وہ تراویح کی نماز پڑھا سکتا ہے؟
Answer (beginning)
جو شخص داڑھی منڈاتایا ایک مٹھی سے گھٹاتا ہو وہ فاسق معلن ہے اس کو امام بنانا، جائز نہیں گناہ ہے۔ اس کے پیچھے کوئی بھی نماز جائز نہیں چاہے فرض نماز ہو یا تراویح۔ دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔ ہاں اگر کسی کی داڑھی قدرتی طور پر ہی چھوٹی ہو وہ داڑھی کٹواتا نہ ہو تو اس کے پیچھے نماز اور تراویح پڑھ سکتے ہیں جبکہ وہ امامت کی دیگر شرائط پر پورا اتر تا ہو۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی و قار الدین صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: " مذہب صحیح پر ایک مشت داڑھی رکھنا واجب ہے۔ منڈوانے والا یا کاٹ کر حد شرعی سے کم کرنے والا فاسق ہے۔ فاسق کی امامت مکر وہ اور اس کو امام بنانا گناہ ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.