Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
فجر کے پورے وقت میں سجدۂ تلاوت ہوسکتا ہے یا نہیں ؟
- Fatwa no.
- 1191-Web
- Issued
- 08 جمادی الثانی 1445ھ /22دسمبر 2023ء
Question
ہے۔ فجر کے پورے وقت میں سجدہ تلاوت ہو سکتا ہے؟
Answer (beginning)
فجر کے پورے وقت میں سجدہ تلاوت ہو سکتا ہے کہ اس پورے وقت میں سجدہ تلاوت کرنا مکروہ و ممنوع نہیں در مختار میں ہے: ”وکرہ نفل وكل ما كان واجبالغیره کمنذور ور کعتى طواف والذي شرع فيه ثم افسده بعد صلاة فجر و عصر لا قضاء فائتة وسجدة تلاوة وصلاة جنازة “ترجمہ : فجر و عصر کے فرض پڑھ لینے کے بعد نفل اور واجب لغیرہ نمازیں پڑھنا مکروہ ہے ، واجب لغیرہ نمازیں جیسے منت کے نفل، طواف کے دو رکعت نفل ، وہ نماز جسے شروع کر کے توڑ دیا البتہ ان اوقات میں قضا نماز کی ادائیگی، سجدہ تلاوت کرنا اور نماز جنازہ پڑھنا مکروہ نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.