Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بینک میں زیور گروی رکھ کر قرض لینا

Fatwa no.
1185-Web
Issued
12 جمادی الاول 1445ھ / 27 نومبر 2023ء

Question

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) بینک میں زیور گروی رکھوانا کیسا ہے ؟

Answer (beginning)

بینک میں زیور گروی رکھوا کر بھی عموماً قرض سود پر ہی لیا جاتا ہے اور سود پر قرض لینا بلا حاجت شرعی حرام ہے چاہے زیور گروی رکھوا کر ہی لیا جائے۔ سود کی مذمت کے متعلق قرآن مجید فرقان حمید میں اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا: ” وَأَحَلَّ اللهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الربوا “ ترجمہ کنز الایمان : ” اور اللہ نے حلال کیا بیع کو اور حرام کیا سود ۔ “ (القرآن، پارہ 03،سورةالبقرة، آيت: 275) حدیث پاک میں ہے: ” لعن رسول الله صلی اللہ تعالی علیه وسلم آكل الربا وموكله وكاتبه و شاھدیہ “اللہ کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے سود کھانے والے ، سو دکھلانے والے،اس کے لکھنے والے اور اس کی گواہی دینے والوں پر لعنت فرمائی…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.