Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قبرستان میں بکریاں چرانے کا حکم
- Answered by
- مولانا عابد عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 1180-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) قبرستان میں بکریاں چرانے کا کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
قبرستان میں بکریاں چہ انا، ناجائز و حرام ہے۔ البتہ قبروں پر موجود خشک گھاس کاٹ کر الگ سے بکریوں کو ڈال دی جائے تو یہ جائز ہے لیکن قبر پر موجود تر گھاس کو کاٹنے کی اجازت نہیں۔ فتاوی رضویہ میں ہے: " قبرستان میں جو گھاس اگتی ہے جب تک سبز ہے اسے کاٹنے کی اجازت نہیں۔ جب سوکھ جائے تو کاٹ کر جانوروں کے لئے بھیج سکتے ہیں مگر جانوروں کا قبرستان میں چرانا کسی طرح جائز نہیں مطلقاً حرام ہے قبروں کی بے ادبی ہے، مذا ہبس اسلام کی توہین ہے، کھلی مذہبی دست اندازی ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.