Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اگر قرض دار عمرہ کر ے تو کیا عمرہ ادا ہو جائےگا؟

Fatwa no.
1176-Web

Question

(دعوت اسلامی) اگر قرض بہت لیا ہوا ہو اور عمرہ کر لیں، تو کیا عمر واد ہو جائے گا؟

Answer (beginning)

قرض عمرہ کی ادائیگی صحیح ہونے کیلئے مانع نہیں ہے، لہذا اگر مقروض شخص عمرہ کر لیتا ہے تو اس کا عمرہ ادا ہو جائے گا تاہم اگر قرض دینے والے ادائیگی کا مطالبہ کر رہے ہوں، تو عمرہ پر جانے کے بجائے قرض کی ادائیگی کرنی چاہیئے کہ باوجود وسعت قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنے کو حدیث پاک میں ظلم قرار دیا گیا ہے۔ وو. بخاری شریف میں حضرت ہمام بن منبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : قال رسول الله صلى الله علیه وسلم: مطل الغنی ظلم یعنی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: صاحب مال شخص کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.