Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دینی کام کرنے کی منت ماننے کا حکم

Fatwa no.
1175-Web

Question

(دعوت اسلامی) اگر کسی نے کہا کہ میر افلاں کام ہو گیا، تو دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں میں اتنا اتنا وقت دوں گا، کیا یہ منت شرعی ہو گی؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں اگر بعینہ دینی کاموں میں وقت دینے کے الفاظ تھے، تو یہ منت شرعی نہ ہوئی،البتہ کام ہو جانے پر اور ویسے بھی دینی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا کارِ ثواب اور آخرت میں نجات کا ذریعہ ہے۔ بہار شریعت میں ہے : شرعی منت جس کے ماننے سے شرعاً اس کا پورا کرناواجب ہوتا ہے ،اس کے لیے مطلقا چند شر طیں ہیں: (1) ایسی چیز کی منت ہو کہ اس کی جنس سے کوئی واجب ہو ، عیادت مریض اور مسجد میں جانے اور جنازہ کے ساتھ جانے کی منت نہیں ہو سکتی۔ (2)وہ عبادت خود بالذات مقصود ہو کسی دوسری عبادت کے لیے وسیلہ نہ ہو ، لہذا وضو و غسل و نظر مصحف کی منت صحیح نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.