Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

الرجی کی وجہ سے نماز میں بار بار رومال استعمال کرنا یا خارش کرنا

Fatwa no.
1171-Web

Question

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کسی شخص کو الرجی ہو اور نزلے کی وجہ سے رومال استعمال کرنا پڑتا ہو ، تو کیا نماز میں رومال استعمال کر سکتا ہے؟

Answer (beginning)

اگر ر و مال استعمال کرنے میں عمل کثیر کا ارتکاب کیا، تو نماز ہی فاسد ہو جائے گی، اس میں دو یا تین بار کرناضروری نہیں البتہ اگر عمل قلیل کے ساتھ استعمال کیا تو ایک رکن میں صرف دو بار تنگ کی اجازت ہے ، تیسری بار میں نماز ٹوٹ جائے گی۔ عمل کثیر کا معنی یہ ہے کہ ایسا کام کیا جس کو دور سے دیکھنے والا یہ سمجھے کہ ایسا عمل کرنے والا نماز میں نہیں ہے نیز وہ کام نہ تو اعمال نماز سے ہو اور نہ ہی اصلاح نماز کے لیے کیا گیا ہو۔ اگر دیکھنے والے کو شک ہو کہ نماز میں ہے یا نہیں تو ایسا عمل، عمل قلیل ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.