Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مسجد میں غسل فرض ہوجائے تو چادر بچھا کر مسجد سے نکلنے کی حقیقت

Fatwa no.
1170-Web
Issued
14 ربیع الثانی 1445ھ /30اکتوبر 2023ء

Question

کچھ لوگ اس طرح مسئلہ بتاتے ہیں کہ مسجد میں سوئے ہوئے شخص پر غسل فرض ہو گیا تو وہ اپنی چادر کے دو کونے ہاتھ میں پکڑے دوسرے دو کونوں پر اپنے پاؤں رکھے اس طرح چلتے ہوئے مسجد سے باہر جائے۔ اس مسئلے کے متعلق رہنمائی فرمادیجئے کہ یہ شر مادرست ہے یا منگھڑت ہے۔

Answer (beginning)

اگر کسی شخص پر مسجد میں غسل فرض ہو جائے اور وہ ایسی جگہ ہے کہ وہاں سے ایک قدم نکالتے ہی مسجد سے باہر ہو جائے گا، تو وہ فور مسجد سے باہر چلا جائے اور اگر ایسا نہیں، تو اس کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ بیدار ہونے پر بلا تاخیر فوراً تیم کرے اور مسجد سے باہر نکلے۔ سوال میں مذکور طریقہ کی کوئی اصل نہیں ہے۔ فتاوی رضویہ میں ہے: ”جو شخص عین کنارہ مسجد میں ہو کہ پہلے ہی قدم میں خارج ہو جائے جیسے دروازے یا مجرے یاز مین پیش حجرہ ( یعنی حجرہ کے سامنے والی زمین) کے متصل سوتا تھا اور احتلام ہوا یا جنابت یاد نہ رہی اور مسجد میں ایک ہی قدم رکھا تھا، ان صورتوں میں فوراً ایک قدم رکھ کر باہر ہو جائے کہ اس خروج (یعنی…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.