Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

وضو کے دوران کچھ قطرے مگ میں گرجایئں تو پانی مستعمل ہوگا یا نہیں؟

Fatwa no.
1161-Web

Question

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) وضو کرتے وقت دھلے ہوئے عضو (مثلاً ہاتھ کے پنجوں سے) ٹپک کر پانی کے قطرات مگ میں ٹپکیں تو تگ کا پانی مستعمل کہلائے گا یا نہیں ؟

Answer (beginning)

مستعمل پانی اگر غیر مستعمل پانی میں مل جائے تو صحیح مذہب کے مطابق اُس سے وضو جائز ہے، البتہ اگر مستعمل پانی ، سادہ پانی سے زیادہ ہو جائے تو اس پانی سے وضو نہیں ہو سکتا مگر چند قطرے زیادہ پانی میں گرنے کی وجہ سے ایسی صورت حال در پیش نہیں ہوتی۔ لہذ انگ میں موجود پانی میں چند قطرے گرنے سے لگ کا پانی مستعمل نہیں ہو گا۔ امام اہلسنت شاہ امام احمد رضا خان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”مائے مستعمل اگر غیر مستعمل میں مل جائے ، تو مذہب صحیح میں اس سے وضو جائز ہے جب تک مائے مستعمل غیر مستعمل سے زائد نہ ہو جائے“(فتاوی رضویہ، جلد 2، صفحہ 37، رضا فاونڈیشن، لاہور) وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَوَجَكَ وَرَسُولُهُ…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.