Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا عورت اپنی بہن اور بہنوئی کے ساتھ عمرہ پر جا سکتی ہے؟

Fatwa no.
1156-Web
Issued
28 ربیع الثانی 1445ھ / 13 نومبر 2023 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کوئی بالغ لڑکی اپنی بہن کے سسرالی خاندان کے ساتھ عمرہ کے لیے جاسکتی ہے جبکہ اس کی بہن اور بہنوئی بھی ساتھ ہوں اور کیا بہن کے حیات ہوتے ہوئے بہنوئی محارم میں شامل ہو گا ؟

Answer (beginning)

بہن کی موجودگی میں بھی بہنوئی غیر محرم ہی ہے، اور غیر محرم والے تمام احکامات جاری ہوں گے ۔ لہذا بہن بہنوئی موجو د ہوں تب بھی مذکورہ بالغہ لڑکی کو 92 کلو میٹر یا اس سے زائد مسافت کا سفر شوہر یا محرم کے بغیر کرناحرام و گناہ ہے چاہے حج و عمرے کے لئے جائے یا کسی اور کام کے لئے۔ لہذا بغیر محرم ہر گز ہر گز سفر نہ کرے صرف بہنوئی کا ساتھ ہو نا کافی نہیں، اگر محرم کے بغیر جائے گی تو قدم قدم پر گناہ گار ہو گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.