Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا جب بھی مباشرت کی جائے تو ہر بار حق مہر دینا ہوگا ؟
- Fatwa no.
- 1145-Web
- Issued
- 16 ربیع الثانی 1445ھ / 01 نومبر 2023ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا حق مہر زندگی میں صرف ایک ہی بار دینا ہوتا ہے ؟ یا ہر دفعہ مباشرت پر دینا ہوتا ہے؟
Answer (beginning)
ایک عورت سے نکاح ہونے پر ایک ہی بار حق مہر کی ادائیگی کو شریعت نے ضروری قرار دیا ہے، بیوی سے کی جانے والی ہر مباشرت پر الگ الگ مہر دینا لازم نہیں۔ البتہ طلاق دے دی پھر شرعی طریقہ کار کے مطابق نیا نکاح کیا تو الگ سے مہر دینا لازم ہو گا۔ اسی طرح اگر کوئی کفر بک دیا جس کی وجہ سے تجدید نکاح لازم ہو تو اب تجدید نکاح کی صورت میں الگ مہر دینا ہو گا۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَوَجَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِيهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net f daruliftaahlesunnat DaruliftaAhlesunnat Dar-ul-ifta…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.