Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ریاکاری کے ساتھ کی گئی عبادت پر بعد میں اخلاص کی نیت کرنا
- Fatwa no.
- 1141-Web
- Issued
- 06 ربیع الثانی 1445ھ / 26اکتوبر 2023ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ریا کاری سے کی گئی عبادت پر بعد میں اخلاص کی نیت کے سکتے ہیں ؟
Answer (beginning)
ریا کاری سے عبادت ادا کی ہو ، تو بعد میں اخلاص کی نیت نہیں، بلکہ تو بہ کرنی ہو گی اور سچی توبہ کرنے کے بعد اس عبادت کی قبولیت کی امید ہے۔ حکیم الامت مفتی احمد یار خان علیہ رحمتہ المنان لکھتے ہیں: ”خیال رہے کہ ریا سے عبادت ناجائز نہیں ہو جاتی، بلکہ نا مقبول ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے، اگر ریا کار آخر میں ریا سے توبہ کرے تو اس پر ریا کی عبادت کی قضا واجب نہیں، بلکہ اس توبہ کی برکت سے گزشتہ نامقبول ریا کی عبادات بھی قبول ہو جائیں گی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.