Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

واش روم کے اوپر بنے ہوئے فلیٹ میں نماز پڑھنا

Fatwa no.
1122-Web
Issued
15 جمادی الاول 1445ھ /30 نومبر 2023ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) بہار شریعت وغیرہ میں استنجا خانے کی چھت پر نماز پڑھنا مکروہ تنزیہی لکھا ہوا ہے ، معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا یہ حکم موجودہ دور کے فلیٹوں میں بھی ہو گا؟ اگر ایک فلیٹ میں جس جگہ واش روم بنا ہو اہو اور اس کے اوپر بنے ہوئے فلیٹ میں اس واش روم کی چھت پر کمرہ ہو تو کیا اوپر والے فلیٹ کے کمرے کے اس مقام پر نماز پڑھنا مکروہ تنزیہی ہو گا جبکہ نیچے والے فلور کے واش روم کی بد بو اوپر والے فلیٹ میں نہیں آتی۔

Answer (beginning)

استنجا خانے کی چھت پر نماز پڑھنے کو مکروہ تنزیہی قرار دینے کی وجہ استنجا خانے سے نکلنے والی بد بو ہے ، چونکہ نیچے والے فلیٹ میں موجود استنجاء خانے کی بدبو او پر والے فلیٹ میں نہیں جاتی اس لیے اوپر والے فلیٹ کے اس حصے پر نماز پڑھنے میں کراہت کا حکم نہیں ہو گا۔ در مختار میں ہے: "تکرہ فی کنیف و سطوحھا یعنی: استنجاء خانے اور اس کی چھت پر نماز پڑھنا مکروہ ہے۔ (در ،مختار، جلد 2، صفحه 52، مطبوعه (پشاور) علامہ سید احمد بن محمد بن اسماعیل الطحطاوی رحمتہ اللہ علیہ " وسطوحها" کے تحت کراہت کی علت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ” لخروج الرائحة الكريهة على المصلى، والذي يظهر في هذا كراهة التنزيه “ يعنى: اُس بو…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.