Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جن افراد کو قبر میں دفن نہیں کیا جا سکا، ان سے سوالاتِ قبر کیسے ہوں گے ؟

Fatwa no.
1129-Web

Question

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) سوال و جواب کرنے والے فرشتے قبر میں آتے ہیں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ مبارک کی قبر میں زیارت کرائی جاتی ہے۔ مگر جو افراد کسی حادثہ کا شکار ہو جاتے ہیں یا جل جاتے ہیں اور ان کی قبر بھی نہیں بن پاتی، تو اُن کے ساتھ یہ معاملات کیسے طے پاتے ہیں؟

Answer (beginning)

مردے کو دفن نہ بھی کیا جائے ، وہ جہاں بھی ہو گا اس سے وہیں سوال وجواب ہوں گے۔ عقیدہ طحاویہ میں ہے: ” واعلم أن عذاب القبر هو عذاب البرزخ، فكل من مات وهو مستحق للعذاب ناله نصيبه منه قبر أولم يقبر، أكلته السباع أو احترق حتى صار رمادأونسف في الهواءأو صلب أو غرق في البحر وصل إلى روحه وبدنه من العذاب ما يصل إلى القبور “ یعنی اور جان لیجئے کہ عذاب قبر ہی عذاب بر زخ ہے، تو ہر شخص جو عذاب کا مستحق ہے تو اسے عذاب سے اس کا حصہ حاصل ہو کر رہے گا خواہ اس کی قبر بنی ہو یا نہ بنی ہو، اس کو درندوں نے کھا لیا ہو یاوہ جل کر راکھ ہو گیا اور ہوا میں بکھر گیا ہو یا اسے سولی لگا دی گئی ہو یا سمندر میں ڈوب گیا ہو ،…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.