Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کسی کےانتقال کے بعد چالیس دن تک کھانا کھلانے کا حکم
- Fatwa no.
- 1118-Web
- Issued
- 07 ربیع الثانی 1445ھ / 23اکتوبر 2023 ء
Question
کہا جاتا ہے کہ جب کوئی شخص انتقال کر جائے، تو چالیس دن تک اس کے نام پر کھانا کسی مستحق فرد کو دینا چاہئے ، پھر اس کے بعد ہر جمعرات کو دے ، کیا ایسا کرنا ضروری ہے؟
Answer (beginning)
میت کے انتقال کے بعد چالیس دن تک کسی شرعی فقیر و غیرہ کو کھانا کھلانا یا ہر جمعرات کو ایصال ثواب کا اہتمام کرنا اور فاتحہ خوانی کی دیگر تقریبات کا انعقاد کرنا فرض یا واجب تو نہیں ہے ، لہذا ان کو لازم سمجھنا درست نہیں، البتہ یہ افعال جائز و مستحسن اور باعث اجر ضرور ہیں، اور ان کی حیثیت ایصالِ ثواب کی ہے یعنی کلمات خیر اور بدنی و مالی عبادات کا ثواب کسی مسلمان کو پہنچانا، اور یہ کام احادیث اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کے افعال سے ثابت ہیں۔ نوٹ: فاتحہ کا طریقہ اور ایصال ثواب کے متعلق مزید معلومات کے لیے مکتبہ المدینہ کے مطبوعہ رسالہ ” فاتحہ اور ایصال ثواب کا طریقہ کا مطالعہ کر لیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.