Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

درہم سے زائد مذی کپڑوں پرلگے ہونے کی صورت میں پڑھی گئی نمازوں کا حکم

Fatwa no.
1115-Web
Issued
09 ربیع الثانی 1445ھ / 125اکتوبر 2023 ء

Question

اگر کسی کو معلوم نہیں تھا کہ درہم کی مقدار سے زائد مذی کپڑے پر لگی ہو تو نماز نہیں ہوتی، اس حال میں اس نے جو نمازیں ادا کیں خواہ فرائض ہوں یا واجبات، سنت ہوں یا مستحبات سب دوبارہ لوٹانا ہوں گی ؟

Answer (beginning)

مدی نجاست غلیظہ ہے اگر درہم سے زائد کپڑے یا بدن پر لگ جائے تو بغیر پاک کیے جو نماز پڑھی وہ سرے سے ادا ہی نہیں ہو گی لہذا اس حالت میں پڑھی گئی فرض یا واجب نمازوں کو قضاء کی نیت سے دوبارہ پڑھنالازم ہے البتہ سنن و نوافل کو دوبارہ نہیں پڑھا جائے گا کیونکہ سنن و نوافل کی قضا نہیں۔ نوٹ بندی سے مراد وہ سفید پتلا پانی ہے جو عموماً عورت سے ملاعبت کرتے ہوئے نکلتا ہے اس کے نکلنے سے شہوت : ختم نہیں ہوتی بلکہ اس میں اضافہ ہوتا ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.