Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کون سے گناہوں کی سزا دنیا ہی میں مل جاتی ہے ؟
- Fatwa no.
- 1114-Web
- Issued
- 09 ربیع الثانی 1445ھ / 25اکتوبر 2023ء
Question
(دعوت اسلامی) گناہ کی سزا آخرت میں ملتی ہے ، لیکن کافی بار دنیا میں بھی مل جاتی ہے، تو کیا کسی حدیث میں ایسے گناہ ذکر ہوئے جن کی سزاد نیا میں ملنے کو بیان کیا گیا ہو ؟
Answer (beginning)
ہر گناہ پر آخرت میں پکڑ ہے مگر جسے اللہ تعالیٰ معاف فرمائے البتہ بعض احادیث میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کچھ ایسے گناہوں کو ذکر فرمایا ہے، جن میں آخرت کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی سزا ملتی ہے ، مثلاً: والدین کی نافرمانی، ظلم اور قطع رحمی۔ حدیث شریف میں ہے: ” كل ذنوب يؤخر الله منها ما شاء إلى يوم القيامة إلا البغى وعقوق الوالدين أو قطيعة الرحم يعجل لصاحبها في الدنيا قبل الموت “ یعنی تمام گناہوں میں سے جسے اللہ چاہے اس کی مزا آخرت تک مؤخر فرماتا ہے سوائے ظلم ، والدین کی نافرمانی یا قطع رحمی کے کہ اللہ تعالی ان گناہوں کا ارتکاب کرنے والے کو اس کی موت سے قبل اس کی زندگی میں سزا دیتا…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.