Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دو شہروں میں گھر ہو تو ایک گھر سے دوسرے گھر جانے پر نماز میں قصر کا حکم

Fatwa no.
1101-Web

Question

ہمارے دو شہروں میں دو گھر ہیں ، دونوں ذاتی ہیں، ایک گھر میں ہم رہتے ہیں اور والد صاحب کاروبار کی وجہ سے دوسرے شہر کے گھر میں رہتے ہیں، مہینے کے بعد وہ ہم سے ملنے آتے ہیں، تو وہ جب ہم سے ملنے آتے ہیں تو جب تک یہاں رہیں وہ نماز مکمل ادا کریں گے یا قصر کریں گے ؟ دونوں شہروں کے درمیان تقریباً 500 کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں جس شہر میں آپ لوگ رہتے ہیں وہ تو آپ کے والد کے لیے وطن اصلی ہے یعنی وہاں آتے ہی پوری نماز پڑھنی ہو گی البتہ وہ شہر کہ جہاں آپ کے والد کاروبار کرتے ہیں اگر ان کا ارادہ وہاں مستقل رہنے کا نہیں ہے نہ وہاں انہوں نے شادی کی تو وہ جگہ وطن اصلی نہیں قرار پائے گی لہذا اگر آپ کے والد اس شہر میں پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کی نیت کریں گے تو شرعا مسافر ہوں گے اور قصر کریں گے اور اگر وہاں پندرہ دن رہنے کی نیت ہو تو پھر مکمل نماز پڑھیں گے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.