Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ناخن کاٹ کر بیت الخلا یا غسل خانہ میں پھینکنے سے بیماری کا اندیشہ ہے
- Fatwa no.
- 1098-Web
Question
کیا ناخن کاٹ کر پھینک دینے سے جس کے ناخن ہوں اس کے بیمار ہونے کا اندیشہ ہے ؟
Answer (beginning)
کٹے ہوئے ناخنوں کو دفن کر دینا چاہیے، اگر دفن نہ کر سکیں تو کسی محفوظ جگہ پر ڈال دینا چاہیے ، اگر انہیں پھینک دیا جب بھی کوئی حرج نہیں ہے، البتہ بیت الخلاء یا غسل خانہ میں پھینکنا مکروہ ہے، کیونکہ اس سے بیماری پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ عالمگیری میں ہے : ”فاذاقلم اظافره و جز اشعاره ينبغي ان يدفنه فان رمي به فلا باس وان القاه في الكنيف او في المغتسل کره لانه یورث داء. ترجمہ : جب کوئی شخص اپنے ناخن یا بال کاٹے تو چاہئے کہ اسے دفن کر دے، اگر اسے پھینک دیا تو کبھی کوئی حرج نہیں ہے، اور اگر بیت الخلاء یا غسل خانہ میں پھینکا تو ایسا کرنا مکروہ ہے، کیونکہ اس سے بیماری پیدا ہوتی ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.