Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دریا کے پانی سے وضو اور غسل کرنا اور دریا کا پانی پینا

Fatwa no.
1095-Web

Question

کیا دریا کے پانی سے وضو اور غسل ہو سکتا ہے ؟ اور کیا مجبوری کے وقت اگر صاف پانی دستیاب نہ ہو، تو کیا وہ پانی پی سکتے ہیں اور کیا کسی جگہ پر دریا کا پانی دریا سے الگ ہو کر کھڑا ہو، تو کیا وہ پانی پاک ہو تا ہے یا ناپاک ہوتا ہے ؟

Answer (beginning)

دریا کے پانی سے وضو و غسل کیا جا سکتا ہے۔ اور صاف پانی موجود ہو یا نہ ہو بہر صورت دریا کا پانی پینا جائز ہے۔ بہار شریعت میں ہے: ”میٹھ ، ندی، نالے، چشمے ، سمندر، دریا، کوئیں اور برف، اولے کے پانی سے وضو جائز ہے۔“ (بہار شریعت، جلد 1، صفحہ 329، مکتبۃ المدینه، کراچی) دریا سے الگ جو کھڑا پانی ہے ، وہ بھی پاک ہی ہے البتہ اگر اس میں نجاست گر جانے کی یقینی معلومات حاصل ہوں تو الگ احکام ہوں گے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.