Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ملازمین کی تنخواہ بغیر طے کیے کارکردگی ( Performance ) کے مطابق دینا کیسا ؟
- Fatwa no.
- 1087-Web
Question
اپنے ملازمین کو تنخواہ پے فار پر فارمنس کی بنیاد پر دینا یعنی جو جیسی اپنی کار کر دگی دکھائے گا اس کے مطابق اس کو تنخواہ دی جائے گی۔ کیا ایسا کرنا، جائز ہے ؟
Answer (beginning)
اجارہ صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اجرت و تنخواہ کام کرنے سے پہلے مقرر اور متعین کرلی جائے، اس میں جہالت نہ ہو جبکہ پوچھی گئی صورت میں کام کرنے سے پہلے اجرت معلوم و متعین نہیں کی گئی بلکہ وہ مجہول ہے، معلوم نہیں کہ کس کی کار کردگی کیسی ہو اور اس کے لیے کتنی اجرت دینا چاہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں یہ اجارہ جائز نہیں ہے۔ سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت شاہ امام احمد رضا خان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ” اجارہ جو امر جائز پر ہو وہ بھی اگر بے تعین اجرت ہو تو بوجہ جہالت اجاره فاسدہ اور عقد حرام ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.