Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اپنا جسم اور سر ایک کپڑے میں چھپا کر نماز پڑھنے کا مسئلہ
- Fatwa no.
- 1086-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) بہار شریعت ص 484 پر مسئلہ ہے: کوئی شخص بر ہنہ اگر اپنا سارا جسم مع سر کے کسی ایک کپڑے میں چھپا کر نماز پڑھے نماز نہ ہو گی اور اگر سر اس سے باہر نکال لے، ہو جائے گی۔ عرض یہ ہے کہ سر بھی چھپالیا تو نماز کیوں نہ ہو گی حالانکہ ستر عورت تو مکمل پایا جارہا ہے ؟
Answer (beginning)
نمازی جب ایک کپڑے میں یوں چھپا ہو کہ اس کا سر بھی اس کے اندر ہو ، تو اس کی ذات تو چھپی ہوئی ہے تاہم ستر عورت نہیں پایا جارہا، جبکہ نماز درست ہونے کے لئے ستر عورت شرط ہے ، نہ کہ ستر ذات۔ یہی وجہ ہے کہ فقہائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص خیمے میں برہنہ نماز پڑھ رہا ہو، تو اس کی نماز نہ ہوگی، اگر چہ وہ خیمے میں تنہا ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ یوں اس کی ذات تو مستور (با پر دہ) ہے مگر اس کا مقام ستر کھلا ہوا ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.