Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نماز میں کچھ وقت کے لئے قضائے حاجت درپیش آئی پھر ختم ہوگئی تو کیا حکم ہے ؟
- Fatwa no.
- 1084-Web
Question
نماز میں کچھ دیر کے لئے قضائے حاجت کی شدت ہوئی، نمازی نے روکے رکھا دور کعت مکمل کی تو شدت ختم ہو گئی، تو کیا نماز واجب الاعادہ ہو گی ؟
Answer (beginning)
اگر کسی کو دورانِ نماز ریح، پیشاب یا پاخانہ کی شدت سے حاجت پیش آئی اور اس نے اسی حالت میں نماز مکمل کرلی اگر چہ بعد میں شدت ختم ہو گئی مگر اس کی وجہ سے وہ نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہو گئی اب اس نماز کا لوٹانالا زم ہے۔ بہار شریعت میں ہے: "شدت کا پاخانہ پیشاب معلوم ہوتے وقت یا غلبہ ریاح کے وقت نماز پڑھنا، مکروہ تحریمی ہے۔ (بہار شریعت، جلد 01، صفحه 625، مکتبۃ المدینه، کراچی) بہارِ شریعت میں ہے: ” جس بات سے دل بے اور دفع کر سکتا ہو اسے بے دفع کیے ہر نماز مکروہ ہے مثلاً پاخانے یا یشاب یاریاں کا غلبہ ہومگر جب وقت جاتاہو تو پڑھ لے پر پھیرے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.