Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

چوری کئے ہوئے لباس میں نماز کا حکم

Fatwa no.
1079-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) چوری کئے ہوئے لباس کو پہن کر نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

چوری کئے ہوئے کپڑوں میں نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے، لہذا اگر ایسے کپڑوں میں نماز پڑھ لی، تو جائزہ کپڑے پہن کر اس نماز کا اعادہ ( دو ہر انا) واجب ہے۔ امام اہلسنت ، سیدی اعلیٰ حضرت ، شاہ امام احمد رضا خان نوری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”چوری کا کپڑا پہن کر نماز پڑھنے میں اگر چہ فرض ساقط ہو جائے گا: ”لان الفساد مجاور “ (کیونکہ فساد نماز سے باہر ہے ) مگر نماز مکروہ تحریمی ہو گی ”للاشتمال على المحرم“ (حرام چیز اٹھائے ہوئے ہونے کی وجہ سے ) کہ جائز کپڑے پہن کر اس کا اعادہ واجب كالصلوة في الارض المغصوبة سواء بسواء“ جس طرح مغصوبہ زمین پر نماز کا حکم اور یہ برابر ہے) 66 وا الله تعالی اعلم ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.