Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
غسل فرض ہونے کی صورت میں چہرہ دھو کر رومال سے صاف کیا تو کیا رومال پاک رہے گا؟
- Fatwa no.
- 1065-Web
Question
ایک شخص پر غسل فرض ہوا، بیدار ہونے پر اس نے جسم پر لگی نجاست کو پانی سے دور کر دیا، لیکن غسل نہیں کیا اور چہرہ دھو کر رومال سے صاف کر لیا، تو کیا اس صورت میں رومال ناپاک ہو جائے گا؟
Answer (beginning)
اگر کسی پر غسل فرض ہو تو اس کا جسم ظاہری اعتبار سے پاک ہی رہتا ہے جبکہ جسم پر کسی جگہ ظاہری نجاست نہ لگی ہو۔ اگر جسم کے کسی حصے پر نجاست لگی ہو تو صرف وہی حصہ ناپاک ہوتا ہے۔ عوام کا یہ سمجھنا کہ پورا جسم ہی ناپاک ہو گیا ہے اور اب جسم کا کوئی بھی حصہ کسی چیز سے لگ گیا تو وہ چیز بھی ناپاک ہو جائے گی، ایسا بالکل نہیں ہے ، یہ بات عوام میں نفاظ مشہور ہے۔ سوال میں جو صورت ذکر کی گئی ہے، اس میں ابھی اگر چہرے پر کوئی ظاہری نجاست نہیں لگی تو چہرہ اور رومال پاک رہیں گے، ناپاک نہیں ہوں گے البتہ نجاست حکمی کو دور کرنے کے لیے اس شخص پر پورا غسل کرنالازم ہو گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.