Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قصر نمازیں مکمل ادا کرتا رہا، تو کیا حکم ہے؟

Fatwa no.
1057-Web
Issued
11 صفر المظفر 1445ھ / 29 اگست 2023 ء

Question

مسافر پر قصر نماز لازم تھی لیکن اس نے لاعلمی میں پوری نمازیں پڑھ لیں ، تو کیا اس کو پوری نماز میں لوٹانی پڑیں گی اور اس کو ان کی تعداد بھی یاد نہیں، تو اس کے لئے کیا حکم ہو گا؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں جتنی نمازوں میں قصر پڑھنا واجب تھا اور ان کو مکمل پڑھا اور دو پر قعدہ بھی کیا تھا تو فرض ادا ہو گئے مگر سلام میں تاخیر کی وجہ سے ایسی تمام نمازوں کو دوبارہ پڑھنا لازم ہے۔ اور اگر دور کعت پر قعدہ نہیں کیا تھا تو فرض ہی ادا نہ ہوئے ، ایسی تمام نمازیں بطور قضا دوبارہ پڑھنا لازم ہے۔ اگر متعین تعداد معلوم نہیں تو ظن غالب کا اعتبار کرتے ہوئے اتنی نمازیں دوبارہ پڑھنا یا قضا کرنالازم ہے جس سے یقینی طور پر بری الذمہ ہو جائے۔ نیز مسئلہ نہ سیکھنے کی وجہ سے گنہگار ہوا، اس سے بھی تو بہ کرے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.