Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نکاح کے بعد رخصتی سے پہلے شوہر کا انتقال ہوجائے تو بیوی شوہر کی میراث پائے گی؟

Fatwa no.
Web-1055:

Question

کسی عورت کا نکاح ہو الیکن رخصتی نہیں ہوئی تھی کہ شوہر وفات پا گیا اور اس کے بعد عورت کا دوسری جگہ نکاح بھی ہو گیا، تو کیا اب یہ عورت اپنے پہلے شوہر کی میراث پائے گی ؟

Answer (beginning)

ا جو عورت شوہر کے انتقال کے وقت اس کے نکاح میں ہو وہ اپنے شوہر کی وارث ہے اگر چہ رخصتی نہ ہوئی ہو، عورت دوسری شادی کر لے جب بھی اس کا حق وراثت باقی رہتا ہے، ختم نہیں ہو جاتا۔ ہمارے ہاں دوسری شادی کر لینے کی وجہ سے بیوہ کو اس کا حصہ نہیں دیا جاتا، یہ حکم الہی کی صریح خلاف ورزی اور ناجائز و حرام ہے اور اس سے بچنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمتہ اللہ علیہ نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں: "زید کی بی بی بھی 66 زید کی وارث ہے علاوہ مہر کے اپنا آٹھواں حصہ پائے گی۔ نکاح کرنے کی وجہ سے ترکہ سے محروم نہ ہو گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.