Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دورانِ نماز قراءت میں غلطی ہونے پر غیر نمازی کا لقمہ لینا
- Fatwa no.
- 1051-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک اسلامی بہن نے نماز پڑھتے ہوئے قراءت میں کچھ غلطی کی، دوسری اسلامی بہن جو ساتھ موجود تھی نماز میں نہیں تھی، اس نے اسے درست قراءت بتائی اور اس کے بتانے کے بعد اس اسلامی بہن نے نماز میں قراءت کو درست کر لیا، تو کیا اس کی نماز ہو جائے گی ؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں اگر نمازی نے نماز سے باہر فرد کے بتانے سے ہی غلطی درست کی، تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی ہاں اگر اس کے لقمہ دینے کی وجہ سے درستی نہ کی بلکہ خود ہی یاد آ گیا یعنی اگر باہر سے لقمہ نہ بھی آتا، تو یاد آجاتا پھر غلطی درست کر لی تو نماز فاسد نہ ہو گی۔ رد المحتار میں ہے: ” ان حصل التذكر بسبب الفتح تفسد مطلقا ای سواء شرع في التلاوة قبل تمام الفتح او بعده لوجود التعلم وان حصل تذكره من نفسه لا بسبب الفتح لا تفسد مطلقا“ یعنی اگر لقمہ دینے کی وجہ سے یاد آگیا، تو نماز مطلقاً فاسد ہو جائے گی یعنی خواہ لقمہ پورا ہونے سے پہلے پڑھنا شروع کر دیا ہو یا لقمہ پورا ہونے کے بعد کیونکہ تعلم پایا…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.