Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
پانی کی بوتل خرید کر بیچنا اور پانی میں لیموں نچوڑ کر بیچنا
- Fatwa no.
- 1043-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ہم پانی کی بوتل 12 روپے کی خریدتے اور 20 یا 25 روپے کی فروخت کرتے ہیں، اسی طرح پانی میں لیموں نچوڑ کر بھی بیچتے ہیں، کیا اس طرح پانی بیچنا جائز ہے؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں آپ اگر جھوٹ نہیں بولتے ، دھو کہ نہیں دیتے تو آپ کا سادہ پانی یا لیموں والا پانی بیچنا جائز ہے۔ البتہ اگر کسی مقام پر جھوٹ یاد ھو کہ وہی وغیرہ شامل ہو مثلاً سادہ پانی کو منرل واٹر کہہ کر بیچناوغیرہ، تو جھوٹ اور دھوکے کی وجہ سے ناجائز ہو گا۔ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”وہ پانی جس کو گھڑوں، مٹکوں یا بر تنوں میں محفوظ کر دیا گیا ہو ، اس کو بغیر اجازت مالک کوئی شخص صرف میں نہیں لا سکتا اور اس پانی کو اس کا مالک بیج بھی کر سکتا ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.