Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

غیر مسلم سے دم کروانا اور تعویذات لینا کیسا؟

Fatwa no.
1041-Web

Question

(دعوت اسلامی) کیا غیر مسلم سے تعویذات لے سکتے ہیں یا دم کروا سکتے ہیں ؟

Answer (beginning)

غیر مسلم سے تعویذات لینا یا دم کروانا، نا جائز و حرام ہے بلکہ بعض صورتوں میں اس پر حکم کفر بھی لگ سکتا ہے لہذا اس سے لازما بچا جائے۔ فتاوی مرکز تربیت افتا میں ہے : " حضرت شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی صاحب علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : غیر مذہب والوں سے جھاڑ پھونک کر انا حرام اور منجر الی الکفر ہے۔ ہند و جھاڑ پھونک کرنے والے اپنے منتروں میں دیوی، دیوتاؤں سے استعانت کرتے ہیں، پھر بھی ان سے جھاڑ پھونک کراتا ہے، تو یہ شخص قطعی طور پر کافر اور یہ نہیں جانتا تھا، تو بھی گناہ گار ضرور ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.