Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کہا کہ یہ دوائی میرے لئے حرام ہے اور پھر وہ دوا کھا لی
- Fatwa no.
- 1040-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) طبیعت خراب تھی، لیکن دوائی نہیں کھائی اور زبان سے یہ الفاظ کہے کہ یہ دوائی میرے لئے حرام ہے، پھر جب طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو وہی دوائی کھالی، تو اس صورت میں کیا حکم ہو گا؟
Answer (beginning)
یہ دوائی میرے لیے حرام ہے " کہنے سے قسم منعقد ہو گئی اور اس دوا کو کھانے سے قسم ٹوٹ گئی جس کا کفارہ ادا کرنا لازم ہے۔ قسم کا کفارہ ایک غلام آزاد کرنا یا دس مسکینوں کو کپڑے پہنانا یا انہیں دو وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلانا لا زم ہو تا ہے اور اسے اس بات کا بھی اختیار ہوتا ہے کہ چاہے تو کھانے کے بدلے میں ہر مسکین کو الگ الگ ایک صدقۂ فطر کی مقدار یعنی آدھا صاع ( دو کلو میں اسی گرام کم گندم یا ایک صاع ( چار کلو میں ایک سو ساٹھ گرام کم ) جو یا کھجور یا کشمش دیدے یا ان چاروں میں سے کسی کی قیمت دے دے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.