Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بیٹی اور ماں کے پاس صرف پانچ پانچ تولہ زیور ہو تو زکوۃ ہوگی؟
- Fatwa no.
- 1031-Web
Question
زكوة كا حكم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ہمارے پاس 10 تولہ زیور ہے جو کہ 5 تولہ میری اور 5 تولہ میری والدہ کی ملک ہے ، میں شادی شدہ ہوں مگر رہتی اپنی والدہ کے ساتھ ہوں تو آیا کیا ہم پر زکوۃ ہو گی یا نہیں؟
Answer (beginning)
زکوۃ واجب ہونے کیلئے ہر ایک کی ملکیت کا جداگانہ اعتبار کیا جاتا ہے، نیز تنہا سونے پر زکوۃ اس وقت واجب ہوتی ہے کہ جب ساڑھے سات تولہ مکمل ہو۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر آپ ، یا آپ کی والدہ کی ملکیت میں سہی 5-5 تولہ سونا ہی ہے اس کے علاوہ اموال زکوۃ ( چاندی، کرنسی، پرائز بانڈز وغیرہ ) میں سے کچھ بھی نہیں ہے تو دونوں میں کسی پر بھی زکوۃ واجب نہ ہو گی۔ ہاں ! اگر مذکورہ سونے کے علاوہ بھی کوئی اموال زکوۃ ( چاندی، کرنسی، پرائز بانڈز ، وغیرہ) میں سے کچھ موجود ہے تو ( دیگر شرائط کی موجودگی میں ) سال گزرنے پر جس کی ملکیت میں ہو اس پر زکوۃ واجب ہو گی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.