Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کپڑے یا بدن پر نجاست لگ جائے تو کیا وضو بھی دوبارہ کرنا ہوگا ؟
- Fatwa no.
- 1021-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) جب کپڑے پر یا بدن پر نجاست غلیظہ یا خفیفہ لگ جائے، تو اس کو دور کرنے کے بعد وضو بھی دوبارہ کرنا ہو گا؟ اسی طرح اگر کسی کو الٹی آئی، تو اب اسے وضو بھی کرنا ہو گا ؟
Answer (beginning)
کپڑے یا بدن پر نجاست لگنے سے وضو ٹوٹنا ضروری نہیں، ہاں اگر بدن سے نجاست بہہ کر نکلی تو وضو ٹوٹ جائے گا مگر کہیں سے گزرتے ہوئے لگ گئی یا بچے نے پیشاب کر دیا اور وہ لگا تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا نہ ہی اسے دھونے کے بعد وضو کا حکم ہو گا۔ وضو کی حالت میں ( جان بوجھ کر قے کریں یا خود بخود ہو جائے دونوں صورتوں میں ) اگر منہ بھر قے آئی اور اس میں کھانا، پانی یا صفراء ( کڑوا پانی) آیا تو وضو ٹوٹ جائے گا اور نماز ادا کرنے کے لئے دوبارہ وضو کر نا ہو گا۔ اگر بلغم کی منہ بھرتے ہوئی تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.