Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مقدس مقام پر گناہ ہوجائے تو اس کا ازالہ کس طرح ہوگا ؟
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) مقدس مقامات پر اگر کوئی گناہ کا کام ہو جائے، تو اس کا ازالہ کس طرح ہو گا ؟
Answer (beginning)
گناہ جہاں بھی ہو وہ گناہ ہی ہے ، ہاں مقدس مقامات پر گناہ کا وبال زیادہ ہے مگر اس کا ازالہ کچی تو بہ ہی ہے۔ تو یہ سچی تب ہوتی ہے جب اس کے ارکان پورے کیے جائیں۔ تو بہ کے ارکان یہ ہیں: اعتراف جرم (یعنی بندہ اپنے گناہ کا اللہ کی بارگاہ میں اعتراف کرے)، شرمندگی، عزم ترک (یعنی وہ گناہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ دینے کا پکا ارادہ ہو ) اگر گناہ قابل تلافی ہو تو اس کی تلافی ( یعنی نقصان کا بدلہ ) بھی لازم ہے۔ مثلاً بے نمازی کیلئے پچھلی نمازوں کی قضا بھی لازم ہے ، روزے رہتے ہوں تو ان کی قضا بھی لازم ہے۔ حقوق العباد تلف کیے ہوں تو ان کو بھی ادا کر نا ہو گا یا جن کا حق تھا ان سے معاف کروائے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.