Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عورت کا اپنے شوہر کو باپ کہہ دینے کا حکم؟

Fatwa no.
1005-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) عورت نے اپنے شوہر کو باپ کہہ دیا یعنی او میرے باپ ایسے نہیں ایسے ہے، کیا اس سے نکاح ٹوٹ جائے گا؟

Answer (beginning)

بیوی کا شوہر کو باپ کہنا یا شوہر کا اسے ماں کہنا گناہ ہے مگر اس سے نکاح نہیں ٹو تھا۔ یعنی میاں بیوی ایک دوسرے کو محارم والے رشتے کے الفاظ سے نہیں پکار یا بلا سکتے مثلاً ایک دوسرے کو بہن بھائی، یا بیٹا بیٹی بھی نہیں کہہ سکتے۔ سنن ابو داؤد میں ہے : " أن رجلا قال لإمرأته : يا أخيه ، فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: أُختک هی، فکره ذلک و نھی عنہ ۔ “ ایک شخص نے اپنی بیوی کو اے میری بہن! کہ کر پکارا تور سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ تیری بہن ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ناپسند فرمایا اور اس سے منع کیا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.