Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
پہلے شوہر کے بیٹے کو مدتِ رضاعت میں دوسرے شوہر کے سبب اترنے والا دودھ پلانا
- Fatwa no.
- 996-Web:
Question
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک عورت کی شادی ہوئی اور ایک بیٹا ہے، اس کی طلاق ہو گئی دوسری شادی ہوئی اب دوسرے شوہر سے بھی ایک بچہ ہوا، سب اللبن تبدیل ہو گیا اب اگر اس عورت نے پہلے بیٹے کو اس کی مدت رضاعت باقی ہوتے ہوئے دوسرے شوہر کے سبب جو دودھ اتر اوہ پلا دیا، تو کیا وہ بچہ دوسرے شوہر کا رضاعی بیٹا مانا جائے گا یا نہیں ؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں بچے کی اپنے سوتیلے والد یعنی عورت کے دوسرے شوہر سے رضاعت ثابت ہو جائے گی۔ بہار شریعت میں ہے: " پہلے شوہر سے عورت کی اولاد ہوئی اور دودھ موجود تھا کہ دوسرے سے نکاح ہوا اور کسی بچہ نے دودھ پیا، تو پہلا شوہر اس کا باپ ہو گا دوسرا نہیں اور جب دوسرے شوہر سے اولاد ہو گئی تو اب پہلے شوہر کا دودھ نہیں بلکہ دوسرے کا ہے اور جب تک دو سرے سے اولاد نہ ہوئی اگر چہ حمل ہو پہلے ہی شوہر کا دودھ ہے دوسرے کا نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.