Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

غسل کرتے ہوئے کان اور ناف کے اندر پانی ڈال کر دھونا ضروری ہے یا نہیں؟

Fatwa no.
994-Web

Question

یانہیں؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرض غسل میں کانوں کے اندر پانی ڈال کر انگلی سے دھونا اور ناف کے اندر پانی ڈالنا انگلی سے دھونا ضروری ہے؟ نہ کرے تو غسل ادا ہو گا یا نہیں ؟

Answer (beginning)

فرض غسل میں تمام ظاہر کی بدن پہ پانی بہانا فرض ہے سوئی کی نوک برابر بھی کوئی حصہ دھلنے سے رہ گیا، تو غسل ادا نہیں ہو گا البتہ کان کے سوراخ کے اندر پانی ڈال کر دھونا یا انگلی ڈال کر دھونا ضروری نہیں بلکہ سوراخ کا منہ اور باقی ظاہری حصہ کا دھلنا ضروری ہے۔ جبکہ ناف کے سوراخ میں پانی بہانا ضروری ہے لیکن انگلی ڈالنا ضروری نہیں ، ہاں اگر پانی بہنے میں شک ہو ، تو انگلی ڈال کر پانی پہنچایا جائے گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.