Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سونے کی گزشتہ سالوں کی زکاۃ کا حکم
- Fatwa no.
- 992-Web
Question
شادی مارچ 2007 کو ہوئی۔ مارچ 2009 تک 17 تولہ سونا تھا، اور مارچ 2011 تک 12 تولہ رہ گیا۔ پھر مارچ 2011 کے بعد سارا بیچ دیا۔ اس کے بعد سے کچھ بھی نہیں ہے ، گزشتہ سالوں کی زکوۃ ادا نہیں کی ہے کیاز کوۃ کی ادائیگی اب کر سکتے ہیں ؟ کریں گے تو کس وقت کے حساب سے؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں جس سال کی زکوۃ رہتی ہے، اسی سال کی قیمت کا اعتبار کرتے ہوئے زکوۃ کی ادائیگی لازم ہے ، موجودہ سال کی قیمت کا اعتبار نہیں ہو گا، کیونکہ صاحب نصاب شخص کے مالِ زکوۃ پر قمری سال کے اعتبار سے جس دن سال مکمل ہو ، زکوۃ کی ادائیگی میں اُسی دن اور اُسی سال کی قیمت کا اعتبار ہوتا ہے خواہ اُسی سال ادا کرے یا کسی اور سال ادا کرے۔ اب تک جو ز کوۃ ادا نہیں کی اس کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ تاخیر پر تو بہ بھی کرنی ہو گی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.