Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مردانہ لاکٹ یا انگوٹھی آن لائن بیچنا
- Fatwa no.
- 986-Web
Question
ہم آن لائن سیلنگ کا کام کرتے ہیں، بعض لوگ ہم سے جینٹس کے لئے بنے ہوئے آرٹیفیشل لاکٹ یا رنگ خریدتے ہیں جن پر اپنا نام بھی لکھواتے ہیں، ہمیں یہ معلوم ہے کہ مرد کے لئے ان کا پہنا جائز نہیں، تو اگر ہم یہ چیزیں ان کو بیچیں گے تو ہم بھی گناہ گار ہوں گے ؟
Answer (beginning)
جس چیز کا پہنانا جائز و گناہ ہے اس کا بنانا اور بیچنا بھی گناہ پر مدد ہونے کے سبب ناجائز و گناہ ہے، لہذ امر دوں کی غیر شرعی انگوٹھی اور مردانہ جیولری بنانا، بیچنا اور خرید ناسب ناجائز و گناہ ہے۔ یادر ہے کہ مردوں کے لیے آرٹیفیشل جیولری بھی ناجائز ہے کیونکہ مردوں کے لیے صرف چاندی کی ایسی انگو ٹھی جائز ہے جس کا وزن ساڑھے چار ماشہ سے کم ہو اور اس میں ایک نگینہ بھی ہو ، ایک سے زیادہ نگینے والی انگوٹھی پہننا یا ایک وقت میں ایک سے زیادہ چاندی کی انگوٹھیاں پہنا یا نگینے کے بغیر انگوٹھی پہنا بھی جائز نہیں کہ نگینے کے بغیر وہ انگوٹھی نہیں بلکہ چھلا ہے اور مردوں کے لیے چھلا پہننا بھی جائز نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.