Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عورت کے لئے مانگ نکالنے کا حکم

Fatwa no.
982-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا عورت کے لیے بھی مانگ نکالنا سنت ہے ؟

Answer (beginning)

نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی عادت مبار کہ درمیان سے مانگ نکالنے کی تھی، لہذا سنت یہ ہے کہ بال ہوں تو سیچ میں مانگ نکالی جائے ایک طرف سے مانگ نکالنامر دو عورت دونوں کے لیے خلاف سنت ہے۔ مشکوۃ المصابیح میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: ”اذا فرقت لرسول الله صلی الله علیه وسلم راسه صدعت راسه فرقه عن یا فوخه وارسلت ناصیتہ بین عینیہ “ یعنی جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سر میں مانگ نکالتی تھی تو آپ کی مانگ آپ کے درمیان سر سے چیر تی تھی اور آپ کی پیشانی کے بال دو آنکھوں کے درمیان چھوڑتی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.