Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اپنی قربانی کے بجائے والدین کی طرف سے قربانی کرنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 975-Web
Question
اگر میں نے اپنی طرف سے قربانی کرنے کی نیت کر کے قربانی میں حصہ ڈال لیا جو کہ مجھ پر واجب بھی تھی اور پھر میری ماں نے بولا کہ میرے نام کی قربانی کر دیتے، تو اس کے بعد میر ادل کرتا ہے کہ وہ قربانی اپنی ماں کے نام پر کروں۔ کیا میں ایسا کر سکتا ہوں ؟
Answer (beginning)
جس پر قربانی واجب ہو اگر وہ کسی اور زندہ شخص کے نام کی قربانی کرے، تو اس سے اُس کی اپنی قربانی کا واجب ادا نہیں ہو گا بلکہ اس پر واجب ہو گا کہ دوسری قربانی سے اپنا واجب ادا کرے، لہذا اگر آپ اپنی والدہ کی نیت سے بھی قربانی کرنا چاہیں تو دوسر ا حصہ ڈالیں۔ صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمتہ اللہ علیہ سے سوال ہوا: " جس پر قربانی واجب ہے ، وہ اگر اپنے لڑکے یابی بی وغیرہ کے نام سے کرے، تو اس کے ذمہ کا واجب ساقط ہو گا یا نہیں؟ اور یہ قربانی صحیح ہو گی ؟
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.